ففتھ جینیریشن وار

forums discuss Pakistani politics ففتھ جینیریشن وار

  • Creator
    Topic
  • #127797 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Topics:968
    • Replies:5752
    • Contributions:6720
    • Expert
    • ★★★

    ففتھ جینیریشن وار

    یوم دفاع پاکستان پر پاکستانی افواج کے سپہ سالار جنرل باجوہ نے ففتھ جینیریشن وار کا خاص طور پر تزکرہ کیا. اور دشمن کس طرح عوام کو اپنے ھی اداروں کے خلاف اکساتے ھیں…

    اس وقت کوئ 35-50 ھندوستانی ویب سائٹس ھیں جنہیں میں جانتا ھوں جو دنیا کے مختلف ممالک سے آپریٹ کی جارھی ھیں. ان ویب سائٹس کا کام ففتھ جینیریشن وار، ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز پھیلا کر ایک مائنڈ سیٹ تیار کرنا ھے.

    ان ویب سائٹس کے بارے میں پہلے بھی خبریں آچکی ھیں…

    Eurasiantimes.com
    ان ویب سائٹس میں سے ایک ھے.
    Videolix.net
    اس ھندو پراپگنڈہ کی جرمن ویب سائٹ ھے

    Timesnow
    Bloombergquint
    Bw business world
    Balochistanvoices
    ThePrint
    Thetrumpet.com
    Economic Times
    WION
    Livemint

    اس کے علاوہ بے تحاشا ھندوستانی ویب سائٹس ھیں جو پاکستان اور چائنہ اور ان کی افواج کے خلاف غلیظ پراپگنڈہ پھیلاتے ھیں…

    یوٹیوب، فیس بک اور دیگر پورٹلز پر ھندوستانی پوری فوج بیٹھی ھے جو اپنا غلیظ پراپگنڈہ پھیلانے کا کام بہت زور و شور سے جاری رکھے ھوئے ھیں، یہی ھندوستانی سوشل میڈیا فورس پاکستانی سوشل میڈیا فورمز میں بھی سرائیت کرچکی ھے اور پاکستانی افواج کے خلاف پراپگنڈہ کے ساتھ ساتھ شیعہ سنی فسادات کی تیاری کا اھتمام بھی کرتے ھیں.

    میرا اپنا اندازہ ھے کہ سوشل میڈیا اور ففتھ جینیریشن وار کے لئے ھندوستان نے 1 ملین افراد کی فوج ساری دنیا میں پھیلا رکھی ھے

    انہیں باقاعدہ تنخواہ ادا کی جاتی ھے اور مقصد پاکستان، چائنہ اور ان کی افواج کو نقصان پہنچانا ھے

    پاکستان اور چائنہ کو ففتھ جینیریشن وار کے اس میدان کو خالی نہیں چھوڑنا ھوگا بلکہ زبردست طریقے سے کاونٹر کرنا ھوگا. کئی ممالک سے درجنوں ویب سائٹس نیوز کی اپریٹ کرنا ھوں گی، سوشل میڈیا فورس کو عام افواج کا حصہ بنانا ھوگا. مختلف ممالک میں مختلف زبانوں میں اس خطرے کو کڑا وقت دینا ھوگا…. صرف اسی کی بدولت ففتھ جینیریشن وار کا مقابلہ کیا جاسکے گا.

    عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ھوگا. کسی بھی خبر کا یقین کرنے سے قبل اس کا ثبوت دیکھے، خبر شئیر کرنے والے سے مانگے.

You must be logged in to reply to this topic.