Pakistani culture

forums Information for Pakistanis in Germany Pakistani culture

  • Creator
    Topic
  • #127486 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    asif65
    • Topics:111
    • Replies:260
    • Contributions:371
    • Expert
    • ★★★

    سب سے پہلا کلچر مذہبی ہم آہنگی کا پروموٹ ھونا چاہئیے، اتنی ہم آہنگی ھے کے سب نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔

    دوسرا کلچر کرپشن کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح کرپشن کر کے پیسہ اکٹھا کیا جا سکتا ھے۔

    تیسرا کلچر ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح 10لیٹر دودھ میں 15 لیٹر پانی ملا کا 25 لیٹر کیا جا سکتا ھے۔ کس طرح چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کمایا جا سکتا ھے۔

    چوتھا کلچر پاکستان کے انصاف کے نظام کا پروموٹ ہونا چاہئے، کہ کس طرح ججوں کو خریدا جا سکتا ھے۔ کس طرح سال ہا سال انصاف پانے کی تمنا میں لوگ اس دنیا سے رخصت ھو جاتے ہیں۔

    پانچواں کلچر پٹواری کلچر پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح صرف ایک انسان( پٹواری ) غریب لوگوں کی زمینوں میں ڈنڈیاں مار مار کر ، اپنی جائیداد بناتا ھے۔

    چھٹا کلچر پاکستانی وکیلوں اور ڈاکٹرز کا پروموٹ ھونا چاہئے، کے کس طرح ایک وکیل انصاف دلوانے کے بجائے اپنی پیشیاں بڑھا کر لوگوں سے پیسہ بٹورتا ھے، اور کس طرح ڈاکٹر حضرات بجائے انسانی جان کی خدمت کرنے کہ عام بیماری کو بھی آپریشن کر کے پیسہ بٹورتا ھے،

    ساتواں کلچر پاکستانی ٹریفک نظام کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح ایک بچہ بغیر لائسنس کے موٹرسائیکل چلا سکتا ھے، کس طرح ایک نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلا سکتا ھے، اور کس طرح ایک لیجنڈ بغیر لائسنس کے ہوائی جہاز اڑا سکتا ھے۔ کس طرح بغیر نمبر پلیٹ کے اپلائیڈ 4 کی اور رنگ برنگی نمبر پلیٹیں اپنی گاڑیوں پر لگائی جاتی ہیں۔

    آٹھواں کلچر پاکستان کے سیاسی حالات اور سیاسی جماعتوں کا پروموٹ ھونا چاہئے، جو کہ عوام کی پارلیمنٹ میں گالی گلوچ اور اپنے سیاسی مفادات کی خاطر عوام کو اپنی جوتی کی میل سمجھتے ہیں۔ ان کو صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات اور عوام سے چوری کیا ھوا پیسہ عزیز ھوتے ہیں۔

    نوواں کلچر پاکستانی تعلیم نظام کا پروموٹ کرنا چاہئے، جہاں کیسے جعلی ڈگریاں خریدی جا سکتی ہیں۔ جہاں امیر کے لئے الگ نظام تعلیم، غریب کے لئے الگ نظام تعلیم ھوتا ہے، اور مدرسوں کا نظام تعلیم، جس میں ایک مولوی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ……………..۔

    دسواں کلچر، پاکستانی عوام کا بجلی، گیس اور پانی چوری کا بھی پروموٹ کیا جا سکتا ھے، کہ کس طرح بجلی کے کھمبے پر کنڈی ڈال کر، کس طرح گیس کی پائپ میں سے پائپ لگا کر چوری کی جاتی ھے۔

    صرف ظاہری خوبصورتی کو پروموٹ کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں، جب تک ہماری قوم میں شعور نہیں آ جاتا۔ صرف مناظر کی خوبصورتی کو پروموٹ کرنے سے وقتی سکون شاید میسر آ جائے، لیکن باقی بد صورت کلچر دیکھ کر ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہ سکتی۔

Viewing 3 replies - 1 through 3 (of 3 total)
  • Author
    Replies
  • #127487 0 Likes | Like it now
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    سب سے پہلا کلچر مذہبی ہم آہنگی کا پروموٹ ھونا چاہئیے، اتنی ہم آہنگی ھے کے سب نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔

    دوسرا کلچر کرپشن کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح کرپشن کر کے پیسہ اکٹھا کیا جا سکتا ھے۔

    تیسرا کلچر ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح 10لیٹر دودھ میں 15 لیٹر پانی ملا کا 25 لیٹر کیا جا سکتا ھے۔ کس طرح چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کمایا جا سکتا ھے۔

    چوتھا کلچر پاکستان کے انصاف کے نظام کا پروموٹ ہونا چاہئے، کہ کس طرح ججوں کو خریدا جا سکتا ھے۔ کس طرح سال ہا سال انصاف پانے کی تمنا میں لوگ اس دنیا سے رخصت ھو جاتے ہیں۔

    پانچواں کلچر پٹواری کلچر پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح صرف ایک انسان( پٹواری ) غریب لوگوں کی زمینوں میں ڈنڈیاں مار مار کر ، اپنی جائیداد بناتا ھے۔

    چھٹا کلچر پاکستانی وکیلوں اور ڈاکٹرز کا پروموٹ ھونا چاہئے، کے کس طرح ایک وکیل انصاف دلوانے کے بجائے اپنی پیشیاں بڑھا کر لوگوں سے پیسہ بٹورتا ھے، اور کس طرح ڈاکٹر حضرات بجائے انسانی جان کی خدمت کرنے کہ عام بیماری کو بھی آپریشن کر کے پیسہ بٹورتا ھے،

    ساتواں کلچر پاکستانی ٹریفک نظام کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح ایک بچہ بغیر لائسنس کے موٹرسائیکل چلا سکتا ھے، کس طرح ایک نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلا سکتا ھے، اور کس طرح ایک لیجنڈ بغیر لائسنس کے ہوائی جہاز اڑا سکتا ھے۔ کس طرح بغیر نمبر پلیٹ کے اپلائیڈ 4 کی اور رنگ برنگی نمبر پلیٹیں اپنی گاڑیوں پر لگائی جاتی ہیں۔

    آٹھواں کلچر پاکستان کے سیاسی حالات اور سیاسی جماعتوں کا پروموٹ ھونا چاہئے، جو کہ عوام کی پارلیمنٹ میں گالی گلوچ اور اپنے سیاسی مفادات کی خاطر عوام کو اپنی جوتی کی میل سمجھتے ہیں۔ ان کو صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات اور عوام سے چوری کیا ھوا پیسہ عزیز ھوتے ہیں۔

    نوواں کلچر پاکستانی تعلیم نظام کا پروموٹ کرنا چاہئے، جہاں کیسے جعلی ڈگریاں خریدی جا سکتی ہیں۔ جہاں امیر کے لئے الگ نظام تعلیم، غریب کے لئے الگ نظام تعلیم ھوتا ہے، اور مدرسوں کا نظام تعلیم، جس میں ایک مولوی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ……………..۔

    دسواں کلچر، پاکستانی عوام کا بجلی، گیس اور پانی چوری کا بھی پروموٹ کیا جا سکتا ھے، کہ کس طرح بجلی کے کھمبے پر کنڈی ڈال کر، کس طرح گیس کی پائپ میں سے پائپ لگا کر چوری کی جاتی ھے۔

    صرف ظاہری خوبصورتی کو پروموٹ کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں، جب تک ہماری قوم میں شعور نہیں آ جاتا۔ صرف مناظر کی خوبصورتی کو پروموٹ کرنے سے وقتی سکون شاید میسر آ جائے، لیکن باقی بد صورت کلچر دیکھ کر ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہ سکتی۔

    ممکن ہے پاکستانی معاشرے کے چند افراد کے لیے یہ ساری باتیں درست ہوں لیکن ساری پاکستانی قوم کو رگڑنا انتہائی نا انصافی ہے ۔۔۔

    ہر معاشرے میں اچھے برے افراد پائے جاتے ہیں ۔۔۔

    پاکستانی کلچر  میں  ظاہری خوبصورتی کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جن کو پرموٹ کیا جا سکتے ہیں ۔۔۔مثال کے طور پر کھانے پینے کی سہولت ۔۔۔ٹرانسپورٹ کی سہولت۔۔۔خاندانی نظام ۔۔۔ مشکل اور پریشانی میں ایک دوسرے کے کام انا۔۔۔رنگ نسل اور قومیت میں فرق نہیں کرنا۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔

    ویسے جرمنوں کو ہمارے مذہب ۔۔۔کرپشن ۔۔۔ملاوٹ اور  ذخیرہ اندوزی ۔۔ انصاف کے نظام ۔۔ پٹواری کلچر ۔۔۔وکیلوں اور ڈاکٹرز کے طور طریقے۔۔۔پاکستان کے سیاسی حالات اور سیاسی جماعتیں ۔۔۔پاکستانی تعلیم نظام ۔۔پاکستانی عوام کا بجلی، گیس اور پانی چوری سے کیا لینا دینا۔۔۔اگر کسی کو ان باتوں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خود پاکستانی ہیں نہ کہ غیر ملکی۔۔۔۔

     

    #127488 0 Likes | Like it now
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★
    بہت اچھی سوچ ہے بھائی جی۔کچھ لوگ تھوڑی یہان محتلف سوچ بھی رکھتے ہین۔اور غصے مین بھی نظر آتے ہین۔
    بھائی لوگ آپ جن جن برائیوں اور غلطیوں کو چن چن کر یہان بیان کر رہے ہو۔ہم۔سب بھی اس کے زمہ دار ہین۔صرف سیاست دانوں ،حکمرانوں پر انگلی اٹھانا ان کے زمے سب کچھ ڈال دینا غلط بات ہے۔
    جھوٹ فریب ،چوری چکاری ،رشوت ملاوٹ بد دیانتی، سفارش، قبضہ مافیا ، گندا گردی ،فراڈ اور دیگر بہت سی غلط باتیں نچلے طبقے مین بھی ہین۔اور بات بات پر مزہبی یا سیاسی پارٹیون کی طرف داری کرتے وقت اپنے دماغ کو استعمال کرنا بھول جا تے ہین۔تکبر غرور ،انا ، اڑے ا جاتی ہے۔جانتے بوجھتے ہوئے بھی غلط چیزوں اور پارٹیوں کی سپورٹ جاری رکھتے ہین۔
    باقی رہی بات کم۔تر ہونے کی۔پاکستانی امیج کی۔ دنیا مین ۔شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہان جرائم۔نہ ہوتے ہون۔رشوت۔سفارش ،دھوکےفراڈ۔قتل۔زنا دیگر ہر۔ملک۔مین۔ہوتے ہین حود اس۔ملک۔کےاندر دیکھ لین۔امریکہ۔کو۔دیکھ لین پورے یورپ کو دیکھ لین۔
    ان ممالک کا میڈیا اور عوام اس طرح۔اپنے ملک کی برائیاں پیش نہن کرتے جس طرح ہم۔کرتے ہین۔ہمارے ملک۔مین جرم۔بعد مین ہوتا ہے پر میڈیا پہلے سے ہی ان کے تانے بانے بنا کر اپنی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنا شروع کر دیتا ہے۔
    اپنے سوشل میڈیا کو دیکھ لیں ہم۔لوگ جھوٹی ،پرانی ،بغیر تصدیق شدہ حبرین اور گھٹیا مواد دھڑا دھڑ شئر کرتے ہین۔شئر کرتے وقت ایک کلک پر یہ بھول جاتے ہین کہ ان کے اثرات کیا ہون۔گے۔کافی لوگ اپنے ملک اور۔مزہب کے حلاف ہی کچھ نہ کچھ شئر کرتے رہتے ہین جان بوجھ کر یا ناسمجھی مین۔ساتھ والے ملک۔کو۔دیکھ لین۔غربت ،گداگری ،ہر طرح کا جرم وہان پر اقلیتوں کی مثالیں پاکستان سے دینے والے وہان اقلیتوں بلکہ مسلمانوں کا حال۔دیکھ لین اور دیگر بہت کچھ منفی ۔پر ان کا میڈیا ،عوام اور انٹرنیشنل میڈیا ۔ان کا منفی رخ کم۔ہی دیکھاتے ہین۔یہی وجہ ہے کہ یہان جس بھی جرمن سے ملو جس بھی غیر ملکی سے ملو انڈیا کی زیادہ تعریف کرتا ہے پاکستان کی نسبت۔
    پاکستان۔کو۔ہم لوگون نے بندوق یا کسی اور منفی چیز کی وجہ سے مشہور کر رکھا ہے۔
    افریقن ممالک کو دیکھ لیں وہان جرائم کے حالات ۔ پر غیر لوگ وہان جاتے ہین تعریفین۔کرتے ہین وجہ کہ اندر کی کمزوریاں اندر کی برائیاں وہ۔لوگ باہر کم۔ہی ظاہر کرتے ہین۔کم۔ہی دیکھاتے ہین۔تو سب کو وہ اچھے معلوم ہوتے ہین۔
    پر۔ہم۔لوگ اپنی برائیاں یا نہ۔بھی ہون تب بھی اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر دوسروں کے سامنے رکھتے ہین تو کون پاگل ہو گا جو پھر آپ کی ،اپ کے ملک کی اپ۔کے مزہب کی تعریف کرے گا ۔کوئی بھی نہن۔
    سب سے پہلے ہم۔سب کو ایک اچھی مثال بننا ہو گا۔اچھے عمل سے لوگ پہچانے جاتے ہین ۔پھر اپنے ملک کے بارے مین وہ تمام اچھے پہلو ڈاسکس کرنے ہون گے لوگوں کو دیکھانا ہون گے لوگوں کی توجہ دلانا ہو گی۔تب ہی اچھا رزلٹ ملے گا۔
    بہترین زرائع میڈیا۔،سوشل۔میڈیا۔اور ہم۔خود ہین یہان۔ان سب کے زریعے مثبت تاثر دینا ہو گا۔

    #127489 0 Likes | Like it now
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    سب سے پہلا کلچر مذہبی ہم آہنگی کا پروموٹ ھونا چاہئیے، اتنی ہم آہنگی ھے کے سب نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔

    دوسرا کلچر کرپشن کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح کرپشن کر کے پیسہ اکٹھا کیا جا سکتا ھے۔

    تیسرا کلچر ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح 10لیٹر دودھ میں 15 لیٹر پانی ملا کا 25 لیٹر کیا جا سکتا ھے۔ کس طرح چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کمایا جا سکتا ھے۔

    چوتھا کلچر پاکستان کے انصاف کے نظام کا پروموٹ ہونا چاہئے، کہ کس طرح ججوں کو خریدا جا سکتا ھے۔ کس طرح سال ہا سال انصاف پانے کی تمنا میں لوگ اس دنیا سے رخصت ھو جاتے ہیں۔

    پانچواں کلچر پٹواری کلچر پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح صرف ایک انسان( پٹواری ) غریب لوگوں کی زمینوں میں ڈنڈیاں مار مار کر ، اپنی جائیداد بناتا ھے۔

    چھٹا کلچر پاکستانی وکیلوں اور ڈاکٹرز کا پروموٹ ھونا چاہئے، کے کس طرح ایک وکیل انصاف دلوانے کے بجائے اپنی پیشیاں بڑھا کر لوگوں سے پیسہ بٹورتا ھے، اور کس طرح ڈاکٹر حضرات بجائے انسانی جان کی خدمت کرنے کہ عام بیماری کو بھی آپریشن کر کے پیسہ بٹورتا ھے،

    ساتواں کلچر پاکستانی ٹریفک نظام کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح ایک بچہ بغیر لائسنس کے موٹرسائیکل چلا سکتا ھے، کس طرح ایک نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلا سکتا ھے، اور کس طرح ایک لیجنڈ بغیر لائسنس کے ہوائی جہاز اڑا سکتا ھے۔ کس طرح بغیر نمبر پلیٹ کے اپلائیڈ 4 کی اور رنگ برنگی نمبر پلیٹیں اپنی گاڑیوں پر لگائی جاتی ہیں۔

    آٹھواں کلچر پاکستان کے سیاسی حالات اور سیاسی جماعتوں کا پروموٹ ھونا چاہئے، جو کہ عوام کی پارلیمنٹ میں گالی گلوچ اور اپنے سیاسی مفادات کی خاطر عوام کو اپنی جوتی کی میل سمجھتے ہیں۔ ان کو صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات اور عوام سے چوری کیا ھوا پیسہ عزیز ھوتے ہیں۔

    نوواں کلچر پاکستانی تعلیم نظام کا پروموٹ کرنا چاہئے، جہاں کیسے جعلی ڈگریاں خریدی جا سکتی ہیں۔ جہاں امیر کے لئے الگ نظام تعلیم، غریب کے لئے الگ نظام تعلیم ھوتا ہے، اور مدرسوں کا نظام تعلیم، جس میں ایک مولوی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ……………..۔

    دسواں کلچر، پاکستانی عوام کا بجلی، گیس اور پانی چوری کا بھی پروموٹ کیا جا سکتا ھے، کہ کس طرح بجلی کے کھمبے پر کنڈی ڈال کر، کس طرح گیس کی پائپ میں سے پائپ لگا کر چوری کی جاتی ھے۔

    صرف ظاہری خوبصورتی کو پروموٹ کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں، جب تک ہماری قوم میں شعور نہیں آ جاتا۔ صرف مناظر کی خوبصورتی کو پروموٹ کرنے سے وقتی سکون شاید میسر آ جائے، لیکن باقی بد صورت کلچر دیکھ کر ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہ سکتی۔

    ممکن ہے پاکستانی معاشرے کے چند افراد کے لیے یہ ساری باتیں درست ہوں لیکن ساری پاکستانی قوم کو رگڑنا انتہائی نا انصافی ہے ۔۔۔

    ہر معاشرے میں اچھے برے افراد پائے جاتے ہیں ۔۔۔

    پاکستانی کلچر میں ظاہری خوبصورتی کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جن کو پرموٹ کیا جا سکتے ہیں ۔۔۔مثال کے طور پر کھانے پینے کی سہولت ۔۔۔ٹرانسپورٹ کی سہولت۔۔۔خاندانی نظام ۔۔۔ مشکل اور پریشانی میں ایک دوسرے کے کام انا۔۔۔رنگ نسل اور قومیت میں فرق نہیں کرنا۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔

    ویسے جرمنوں کو ہمارے مذہب ۔۔۔کرپشن ۔۔۔ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی ۔۔ انصاف کے نظام ۔۔ پٹواری کلچر ۔۔۔وکیلوں اور ڈاکٹرز کے طور طریقے۔۔۔پاکستان کے سیاسی حالات اور سیاسی جماعتیں ۔۔۔پاکستانی تعلیم نظام ۔۔پاکستانی عوام کا بجلی، گیس اور پانی چوری سے کیا لینا دینا۔۔۔اگر کسی کو ان باتوں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خود پاکستانی ہیں نہ کہ غیر ملکی۔۔۔۔

     

    Asif Lakehsar
    آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا،، میں اور کلچر بھی لکھنا چاہتا تھا، لیکن 10 پر ہی اکتفا کر لیا۔۔
    گیارہواں کلچر، ہم پاکستانی کھانے پینے کا بھی کلچر پروموٹ کر سکتے ہیں، جہاں بکرے کا گوشت بتا کر گدھے کا گوشت بیچا جاتا ھے۔ جہاں پر پھلوں میں ٹیکے لگا کر اور ان پر رنگ کر کے بیچا جاتا ہے۔ دودھ میں پانی ملانا، ناپ تول میں کمی کرنا یہ تو گلی گلی کا کلچر ھے،
    بارہواں کلچر۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت
    جہاں ہوائی رکشے چلتے ہیں۔ مسافروں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ ہر ٹرانسپورٹر اٹھاتا ھے۔ ناجائز ذائد کرائے، 42 مسافروں والی بس میں چھوٹے سٹول لگا کر 62 مسافر بٹھائے جاتے ہیں۔ 72 مسافروں والے طیارے ( بس ) پر 100 سے زائد مسافر ٹھونسے جاتے ہیں۔ جہاں پر بغیر لائسنس ہر کوئی گاڑی چلا سکتا ھے، صرف جیب میں 100، 200 روپے احتیاطی طور پر رکھنا ضروری ھے، نہیں تو پھر ماموں گھر جا کر زیادہ خرچ ھو جائے گا۔
    تیرھواں کلچر،، پاکستانی خاندانی نظام کا پروموٹ ھونا چاہئے، کہ کس طرح جائیداد کی خاطر اپنے ہی ایک دوسرے کا خون پینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جس میں عورت کا اپنا حصہ مانگنا معیوب سمجھا جاتا ھے۔ ( یورپ کی مثال نہ دیجئے گا، یہاں خاندانی اور اسلامی نظام نہیں ہے )۔ جہاں پر غیرت کے نام پر مرد عورت کا استحصال بھی کرتا ھے اور موقع ملنے پر اس کا کام تمام کر کے اپنی غیرت دکھانے کا اعلی مظاہرہ بھی کرتا ھے۔
    چودھواں کلچر، مشکل پریشانی میں ایک دوسرے کے نام آنے کا پروموٹ ھونا چاہئیے۔ چلیں اس کو تھوڑا پروموٹ ھو جانا چاہئے۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ھوں۔
    پندرھواں کلچر، رنگ نسل قومیت میں فرق نہ کرنا پروموٹ ھونا چاہئے۔ جہاں پر ایک قوم دوسری قوم کو ہتک آمیز رویہ سے دیکھتے ہیں۔ شادی بیاہ سے پہلے انسان کے اخلاق سے زیادہ اس کی قوم اور زبان پر توجہ دی جاتی ھے۔ پنجابی سرائیکی میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے تو سرائیکی پنجابیوں میں شادی کرنا معیوب سمجھتے ہیں۔ جٹ آرائیں قوم کو گنڈے کھانے والی قوم سے تشبیح دیتے ہیں تو آرائیں جٹ قوم کو حاصل سمجھتے ہیں۔ جہاں انسان کی قابلیت کے بجائے اس کی شخصیت کا اندازہ اس کی قوم سے لگایا جاتا ھے۔
    جرمنوں کو ہمارے ان کلچرز سے کچھ لینا دینا نہیں، لیکن اگر ہم بھی سب اچھا ھے کا کہہ کر اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں گے تو ہم بھی اس فروٹ پیچنے والے سے کم بے ایمانی نہہں کر رہے ھوں گے، جو کہ ایک بدنما اور بد ذائقہ چیز پر رنگ لگا کر ہمیں فروخت کرتا ھے۔
    اگر آپ پاکستان کی جگہ آپ ڈیفنس، گلبرگ، بحریہ ٹاؤن اور پوش علاقوں کے کلچر کی بات کر رہے ہیں تو وہ کلچر سارے پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ پھر آپ جرمنوں کو کہہ سکتے ہیں کے آئیے ہم آپ کو اپنے امراء کا کلچر دکھاتے ہیں۔ شائد پاکستان کے امراء کا کلچر دیکھ کر جرمنی میں بھی اندازہ لگایا جا سکے کہ کون وزیر ھے، کون امیر ھے،
Viewing 3 replies - 1 through 3 (of 3 total)

You must be logged in to reply to this topic.