جرمنی میں ٹریفک قوانین کی عملداری پر ایک مختصر نوٹ:

forums Information for Pakistanis in Germany جرمنی میں ٹریفک قوانین کی عملداری پر ایک مختصر نوٹ:

  • This topic has 3 replies, 2 voices, and was last updated 1 month ago by asif65.
Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)
  • Author
    Posts
  • #91301
    Keymaster
    Keymaster
    admin

      گر کوئی کار ڈرائیور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتاہے۔اسکو ٹریفک کانسٹیبل یا ٹریفک پولیس کی چھاپہ ٹیم روکتی ہے اسکو ہر حالت میں رکنا ہوتا ہے اسکے
      “نہ رکنے” کا کوئی عُذر قابلِ قبول نہیں ہے۔اگر کار ڈرائیور پھر بھی نہیں رُکتااور “چھاپے” کو توڑ کر بھاگنے میں کامیاب ہو جائے(جو بہت ہی مشکل ہوتا ہے ) توکارکی نمبر پلیٹ کیوجہ سےکار کی شناخت ہو
      جاتی ہےاورمحکمہ ٹریفک پولیس کار کے مالک کےنام خط لکھ کر ڈرائیور کے کوائف مانگےگا ۔اب یا تو مالک یا ڈرائیور کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہو گی۔اگرکار کا مالک اس وقتی ڈرائیورکو بچانے کے لئے اس کانام نہ دے اور ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی ہوئی ہو توکبھی کبھی مالک صرف ایک دفعہ بچ جاتا ہے لیکن مالکِ کار کومستقبل میں ہمیشہ کی بنیاد پر “ڈرایونگ بک” لکھنا پڑےگی کس نے، کب، کہاں کار چلائ ہے/تھی۔

      ٹریفک چیکنگ کے دوران اکثر اوقات ڈرائیوروں کی شناخت اورلائسنس کےساتھ ساتھ کار کی بھی چیکنگ ہوتی ہے کہ کیایہ کار ٹریفک کے حفاظتی قوانین کے مطابق محفوظ ہے۔ایسا بھی ہو سکتاہے کہ اگر کار محفوظ نہیں تو ڈرائیور کو مزید کار چلانے سے منع کر دیا جاتاہے اورکار کو وہیں روک کر سڑک کے کنارے پارک کردیا جاتا ہے۔ یہی عمل کار یا ڈرائیور کے مطلوبہ کاغذات کی عدم موجودگی پر بھی ہو سکتاہے۔
      جب کار چلانے والے انسان کا تعین ہو جائے۔تو محکمہ ٹریفک پولیس کی طرف سے اسکوخط لکھ کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے پوچھ گچھ شروع ہوتی ہےاسکوحق دیاجاتا ہے کہ وہ اس الزام کو تسلیم کرے اور اس کا جرمانہ وغیرہ ادا کرے یامسترد کرتے ہوئے اپنا کیس مزید کاروائی کےلئے کسی وکیل کو دےیا خود اس الزام کے خلاف محکمہ ٹریفک پولیس کو اپیل کرے۔اگر اپیل مسترد ہوتی ہےاور ملزم اپناقصور نہیں مانتا تومحکمہ ٹریفک پولیس اس کیس کو عدالت میں پیش کر دیتا ہے۔ جہاں پرٹریفک قوانین کے مطابق کیس چلتا ہے جو کبھی کبھی تمام عدالتوں سے گزرنے کی وجہ سے طویل عرصے تک جاری رہ سکتاہے۔

      ٹریفک قوانین کیخلاف الزامات/جرائم کی مختلف کیٹیگریز ہیں۔جو Bußgeldkatalog2018
      میں دیکھی جاسکتی ہیں مثلا معمولی قسم کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ ادا کرنے پر کیسز ختم ہو جاتےہیں۔ لیکن شدید قسم کی خلاف ورزیوں پرجرمنی کےشہر Flensburgمیں ایک مرکزی ٹریفک رجسٹر میں اندراج ہوتا ہے۔جہاں تمام لائیسنس ہورڈرز کے کوائف ایک ڈیٹا بنک میں ہیں۔اور اندراج پوائنٹس سسٹم کےتحت ہوتا ہے۔ یہ سسٹم یکم مئی 1974 سےقانونی حیثیت رکھتاہے۔
      حادثات میں زخمی ہونے یا اموات کی صورت میں قصوروار ڈرائیوروں کو جرمانےاور پوائنٹس کے اندراج کے ساتھ ساتھ مزید شدید سزائیں قید وغیرہ بھی بھگتنا پڑ سکتی ہے۔

      2014 تک ٹریفک رجسٹر میں کُل تعداد18 پوائنٹس تک ہوتی تھی۔لیکن اب 8 ہے۔
      1۔3 پوائنٹس کا اندراج صرف نوٹس کی شکل میں ہوتاہےاور متعلقہ لائیسنس ہولڈر کو صرف اطلاع دی جاتی ہے۔

      4۔5پوائنٹس کے جمع ہونےپرپہلی وارننگ بھیجی جاتی ہےاور ساتھ ہی ساتھ ایک تجویز
      to attend socalled driver fitness seminar (FES)
      دی جاتی ہے جس پر عمل کرنے سے پوائنٹس کم بھی ہوسکتے ہیں۔

      6۔7پوائنٹس پر آخری وارننگ دی جاتی ہے اور ساتھ ہäی ساتھ ایک تجویز
      to attend medical-psychological-assessment (MPU)

      دی جاتی ہے جس پر عمل کرنے سے پوائنٹس کم بھی ہو سکتےہیں۔ اس ٹیسٹ کو ازراہ مزاق “idiot test“ بھی کہتے ہیں
      8 پوائنٹس کے اندراج پر ڈرائیونگ لائیسنس ضبط ہوجاتا ہے۔

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جرمنی سےسیکھ کر جیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      #91304
      Keymaster
      Keymaster
      admin

        گاڑی سے ٹکر ہونے کے بعد حادثے کی جگہ سے چلے جانے کی سزا 600 یورو جرمانہ اور ایک مہینے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس سرکاری تحویل میں
        strafbar als unerlaubtes Entfernen vom Unfallort gemäß $$ 142 Abs. 1 Nr. 2, 44 SIGB
        1
        چاہے پارکنگ کرتے ہوہے یا پارک سے نکلتے ہوہے ہی ٹکر لگی ہوہی ہو تب بھی ۔۔۔

        #91329
        asif65

          test

          #91331
          asif65

            test new

          Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)

          You must be logged in to reply to this topic.