طالبان سے مزاکرات

forums discuss Pakistani politics طالبان سے مزاکرات

  • This topic has 241 replies, 10 voices, and was last updated 6 years ago by Bawa.
  • Creator
    Topic
  • #99794 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Topics:934
    • Replies:5621
    • Contributions:6555
    • Expert
    • ★★★

Viewing 30 replies - 1 through 30 (of 241 total)
  • Author
    Replies
  • #107783 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    میں طالبان سے مذاکرات کا حامی ہوں لیکن طالبان کا نہیں. ہمیشہ ہر مسئلے کو پہلے مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے اور طاقت کا استعمال اور جنگ آخری آپشن ہونی چاہئیے

    طالبان درندوں کی حمایت دراصل دہشتگردی اور بربریت کی حمایت ہے. ہمیں طالبان کی اندھی تقلید ہے گریز کرنا چاہئیے

    .

    .

    #107784 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    ہمیشہ ہر مسئلے کو پہلے مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے اور طاقت کا استعمال اور جنگ آخری آپشن ہونی چاہئیے

    باوا جی ۔۔

    جنگ تو دشمنوں سے ہوتی ہے ۔ اپنی عوام کے خلاف جنگ سے تو کبھی کوئی مسلہ حل نہیں ہوا ۔ عوام اگر بغاوت پر ا جائے تو طاقت کے استعمال کے بجائے ایسی وجوہات تلاش کرنی چاھیے جو عوام کے باغی ہونے کی وجہ بنی ہیں اور ان کو دیانتداری سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاھیے ۔۔

    #107785 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    کیا آپ معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں اور مساجد میں بم دھماکے کرنے والوں کو عوام کہتے ہیں؟

    یہ کیسے مسلمان ہیں جو مسلمانوں کو قتل اور مساجد کو تباہ کر رہے ہیں؟ ایسے مسلمانوں سے تو کافر لاکھ درجے بہتر اور اچھے انسان ہیں

    یہ طالبان تو اسلام کے نام پر ایک بد نما دھبہ ہیں

    مذاکرات صرف اس لیے کرنے چاہئیے تاکہ یہ درندے معصوم لوگوں کا قتل اور مساجد اور سکولوں کو تباہ کرنا بند کر دیں

    #107786 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    آپکی عوام کا ہمارے لیے نئے سال کا تحفہ

    .

    .

    #107787 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    ‎کیا آپ معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں اور مساجد میں بم دھماکے کرنے والوں کو عوام کہتے ہیں؟

    باوا جی ۔

    اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ کوئی سازش نہیں ہے ؟

    جب تک کوئی خود کو ملک کا شہری سمجھتا ہے تو وہ عوام کے زمرے میں ائے گا ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری چوری کرتا ہے یا قتل کرتا ہے تو ریاست اس کو گرفتار کر کر اس ملک کے قانون کے مطابق اس پر مقدمہ چلا کر اس کو سزا دیتی ہے ۔ نہ کہ اس کو گولی مار دی جاتی ہے ۔ یا ملک کا شہری نہ ہونا قرار دے کر ملک سے نکال دیا جاتا ہے ۔ اج کل تو عوام نے قانون کو ہاتھ میں لے لیا ہے اور خود ہی چوروں کو پکڑ کر مار رہی ہے ۔ یہ بھی غلط ہے ۔ لیکن ریاست کو تو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا ۔۔ جیسے بلوچستان میں لوگوں کو مروانا ریاست کی غلطی ہے اسی طرح ملک کے کسی حصے میں عوام کے خلاف طاقت کا استعمال اور جنگ غلط راستہ ہے ۔

    اگر میرا کسی سے جھگڑا ہے اور میں اس سلا کرنا چاہتا ہوں اور جب اس سے سلا کی بات کرنے جاتا ہوں تو یہ بات زہن میں رکھتا ہوں کہ اگر اس نے میری بات نہیں مانی تو میں اس کا گلا ہی دبوچ دوں گا اور ممکن ہے جس سے میرا جھگڑا ہے وہ بھی یہی بات سوچے تو اپ کا کیا خیال ہے کہ یہ سلا ہو سکے گی ؟

    نہیں ۔ اگر مجھے واقع سلا کرنی ہے تو مجھے صرف صرف ایک بات پر دھیان دینا ہو گا کہ یہ سلا کیسے ہو سکتی ہے ؟

    #107788 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    باوا جی ۔

    اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ کوئی سازش نہیں ہے ؟

    .

    .

    مومن بھائی

    اگر طالبان یہ کام نہیں کر رہے ہیں تو پھر طالبان سے مذاکرات کس لیے کر رہے ہیں؟

    #107789 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    #107790 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107791 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107792 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★
    #107793 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107794 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107795 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    مسلم خان

    امریکی پولیس کا ایک دلچسپ عہدہ ہوتا ہے‘ نیگوشی ایٹر۔ یہ لوگ مذاکرات کے ماہر ہوتے ہیں‘ یہ لوگ پولیس فورس جوائن کرنے سے قبل مختلف یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور تربیتی اداروں سے مذاکرات کی باقاعدہ تربیت لیتے ہیں‘ شہر میں جب بھی کوئی شخص خودکشی کرنے لگتا ہے‘ کوئی کسی کو اغواء کر لیتا ہے‘ کوئی کسی ادارے یا گھر کے لوگوں کو یرغمال بنا لیتا ہے یا پھر پولیس مجرموں کو گھیر لیتی اور وہ کسی کونے میں پناہ گزین ہو جاتے ہیں تو پولیس مذاکرات کے ایکسپرٹ کو بلا لیتی ہے‘ یہ ماہر ملزم سے گفتگو شروع کر دیتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ ہتھیار ڈالنے پر قائل کر لیتا ہے‘ ملزم اگر ہتھیار نہ ڈالے تو یہ لوگ اسے باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں‘ پولیس اس دوران اندر گھس کر ملزم کو قابو کر لیتی ہے‘ پولیس ان لوگوں کو اتنا ہی اہم سمجھتی ہے جتنا یہ رائفل‘ پستول یا گولی کو اہمیت دیتی ہے‘ مذاکرات کے یہ ایکسپرٹ ملزموں اور مجرموں کو الجھانے کے لیے چند تکنیکس استعمال کرتے ہیں‘ یہ تکنیکس بھی ان کے پیشے کی طرح بہت دلچسپ ہوتی ہیں مثلاً یہ ملزم تک پہنچتے ہی اس سے کھانے‘ پانی یا سگریٹ کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ ہدف اگر بھوکا ‘پیاسا ہے یا پھر اسے سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے تو یہ اسے فوراً یہ سہولت فراہم کر دیتے ہیں‘ یہ اسے زندگی کے اہم ترین دن یاد کراتے ہیں‘ یہ اس کے شوق کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ ملزم اگر موسیقی کا رسیا ہو تو یہ اسے گانے سنائیں گے‘ وہ اگر اسپورٹس میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ اس سے اسپورٹس کی باتیں کریں گے اور یہ ان باتوں کے دوران اسے اس پوائنٹ پر لے آئیں گے جہاں یہ اسے لانا چاہتے ہیں۔

    یہ ان ماہرین کی عام تکنیکس ہیں‘ ان کی سب سے اہم اور کامیاب ترین تکنیک ہدف کے قریبی لوگوں کی ان سے بات کرانا یا پھر اسے ان کے سامنے کھڑا کر دینا ہے‘ یہ اس کے کسی قریبی دوست سے رابطہ کرتے ہیں‘ اس سے ٹیلی فون ملاتے ہیں اور فون ملزم کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں‘ ملزم دوست سے گفتگو شروع کرتا ہے اور دوست اسے پسپائی اختیار کرنے یا سرینڈر کرنے پر تیار کر لیتا ہے‘ یہ لوگ اس سے بھی بڑھ کر اس کے دوست‘ والد‘ والدہ‘ بہن‘ بھائی‘ بیوی یا کسی بچے کو اس کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں‘ یہ اس بچے سے گفتگو شروع کرتا ہے اور یہ مکالمہ آخر میں ایشو کے خاتمے کا باعث بن جاتا ہے‘ مذاکرات کے ان ایکسپرٹس کی باقاعدہ درجہ بندی ہوتی ہے اور یہ لوگ جوں جوں کامیاب ہوتے جاتے ہیں‘ ان کے درجوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ نیگوشی ایٹرز اپنے پروفائل میں بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں’’ ہم نے اتنے آپریشن کیے اور ان میں سے کسی میں بھی کوئی گولی نہیں چلی‘‘ یہ ایشو حل کرنے کی جدید ترین تکنیک ہے اور یہ تکنیک اب پولیس کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہے‘ نیگوشی ایٹرز اب وزارت خارجہ میں بھی ہوتے ہیں‘ وزارت خزانہ میں بھی اور اطلاعات و نشریات کی وزارت میں بھی۔ امریکا اور یورپ کی کاروباری کمپنیاں بھی ان کی سروسز حاصل کرتی رہی ہیں اور یہ لوگ بڑی بڑی ڈیلز میں بھی شامل ہوتے ہیں۔

    ہماری سمجھ دار اور ہیوی مینڈیٹ حکومت چار ماہ سے طالبان سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی‘ امریکا نے یکم نومبر2013ء کو حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ کیا‘ حکومت نے اس حملے سے قبل دیوبند مکتبہ فکر کے چند بڑے علماء کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان سے رابطہ کیا‘ یہ رابطہ خطوط کے ذریعے استوار ہوا۔ کراچی کے دو لوگوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ خطوط نے ابھی ٹیلی فون اور ملاقات پر شفٹ ہونا تھا کہ یکم نومبر کا دن آ گیا‘ امریکا نے میرانشاہ پر ڈرون حملہ کیا‘ حکیم اللہ محسود میزائل حملے کا نشانہ بن گئے‘ حملے کے ساتھ ہی رابطوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا‘ تحریک طالبان پاکستان نے حکیم اللہ محسود کے بعد ملا فضل اللہ کو اپنا امیر بنا لیا‘ ملا فضل اللہ مولانا صوفی محمد کے داماد ہیں‘ یہ سوات کے رہنے والے ہیں‘ ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی شاخ بابوکارخیل سے ہے‘ ملا فضل اللہ نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی‘ صوفی محمد کے مدرسے میں داخل ہوئے‘ وہاں چھ درجے تک گئے‘ صوفی محمد اکتوبر 2001ء میں طالبان کی مدد کے لیے افغانستان گئے تو ملا فضل اللہ بھی اس لشکر میں شامل تھے‘ افغانستان میں ان لوگوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا‘ یہ سیکڑوں ساتھیوں سے محروم ہو گئے‘ شمالی اتحاد کے لوگ ان لوگوں کی گردنیں کاٹ کر شہ رگ میں پٹرول بھرتے‘ پٹرول کو آگ لگاتے اور ان کی نعشوں کو تڑپتے ہوئے دیکھتے‘ ملا فضل اللہ اس وقت تک زیادہ مقبول نہیں تھے۔

    ان کو اصل مقبولیت اس وقت ملی جب انھوں نے 2005ء میں اپنا ایف ایم ریڈیو بنایا‘ یہ سارا دن اس ریڈیو پر بیٹھ کر تقریریں کرتے تھے‘ لوگوں نے انھیں لاکھوں کروڑوں روپے چندہ دینا شروع کر دیا‘ اس چندے سے انھوں نے امام ڈھیری میں 50 کمروں کا مرکز بنا لیا‘ یہ صوفی محمد کے ساتھ 17 ماہ ڈی آئی خان جیل میں بھی رہے‘ یہ جب اہمیت اختیار کر گئے تو اس وقت ان کے دو قریبی ساتھی تھے‘ مسلم خان اور محمود خان۔ مسلم خان کا خاندان مینگورہ میں چائے کی پتی کا بزنس کرتا تھا‘ یہ سوات میں چائے کے بڑے ہول سیلر تھے‘ یہ عام نوجوان تھا‘ یہ جوانی میں امریکا چلا گیا‘ وہاں پانچ چھ سال تک پٹرول پمپ پر کام کیا‘ یہ 1997-98ء میں امریکا سے واپس آ گیا اور جیش محمد میں شامل ہو گیا‘ یہ بعد ازاں پاکستانی طالبان کے ساتھ مل گیا اور آہستہ آہستہ طالبان کا ترجمان بن گیا‘ محمود خان ملا فضل اللہ کا دوسرا اہم ترین دوست تھا‘ یہ کبل ہزارہ سے تعلق رکھتا تھا‘ یہ بھی سوات کے مشہور کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘ یہ دونوں 2009ء میں مالم جبہ میں سیکیورٹی اداروں سے مذاکرات کے لیے آئے اور گرفتار کر لیے گئے‘ یہ دونوں آج بھی حکومتی اداروں کے پاس ہیں‘ مسلم خان اور محمود خان وہ واحد رابطے ہیں جن کے ذریعے نہ صرف طالبان سے رابطہ ہو سکتا ہے بلکہ مذاکرات بھی ممکن ہیں‘ مجھے پچھلے ماہ اطلاع ملی۔

    حکومت انھی لوگوں کے ذریعے طالبان سے رابطے کر رہی ہے مگر بعد ازاں یہ سلسلہ بند ہو گیا‘ میری دو دن قبل تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان سے بات ہوئی‘ ترجمان کا کہنا تھا‘ ہماری مجلس شوریٰ میں 16 ارکان ہیں‘ ان میں سے 14 مذاکرات کے مخالف ہیں‘ صرف دو رکن حمایت کر رہے ہیں‘ ترجمان نے تسلیم کیا‘ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے بعد کراچی کے چند علماء کرام کے ذریعے ہم سے رابطہ کیا‘ یہ رابطہ خطوط کے ذریعے ہوا‘ یہ ہمیں خط لکھتے تھے اور ہم یہ خط امیر تک پہنچا دیتے تھے مگر پھر اچانک حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ ہو گیا‘ اس حملے نے حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ توڑ دیا‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کو مولانا سمیع الحق قبول ہیں‘‘ ترجمان کا جواب بہت واضح تھا‘ اس کا کہنا تھا ’’ہم شخصیت کے لحاظ سے مولانا کا بہت احترام کرتے ہیں مگر جہاں تک مذاکرات کا معاملہ ہے ہمیں مولانا قبول نہیں ہیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ کوئی اور شخصیت‘‘ ان کا جواب تھا ’’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہی نہیں ہیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کی طرف سے ایک ٹارگٹ لسٹ اسلام آباد میں گردش کر رہی ہے‘ کیا یہ فہرست درست ہے‘‘ ترجمان نے جواب دیا ’’یہ لوگ اگر ہمارے بڑوں کو ماریں گے تو ہم بھی ان کے بڑوں کو نشانہ بنائیں گے‘‘ ۔

    مجھے ترجمان کی گفتگو سے اندازہ ہوا حکومت اور طالبان کے درمیان ڈیڈ لاک ہو چکا ہے‘ حکومت مذاکرات کا ڈھول اٹھا کر پھر رہی ہے لیکن تحریک طالبان پاکستان یہ ڈھول پیٹنے کے لیے تیار نہیں ہے‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے‘ ہمارا اگلا قدم کیا ہو گا؟ کیا ہم جنگ کریں گے؟ فرض کر لیجیے‘ ہم جنگ یا آپریشن کے آپشن کی طرف جاتے ہیں تو سوال پیدا ہو گا‘ ہم آپریشن کریں گے کہاں؟ ملا فضل اللہ اور شاہد اللہ شاہد افغانستان میں ہیں‘ کیا ہم ڈیورنڈ لائن عبور کر کے ملا فضل اللہ کو ماریں گے؟ اگر ہاں تو کیا افغان حکومت اور نیٹور فورسز ہمیں اس کی اجازت دے دیں گی؟ اگر نہیں تو پھر اس آپریشن کی کیا حیثیت ہو گی؟ طالبان کی قیادت افغانستان میں ہے لیکن ان کے لوگ جنوبی وزیرستان سے لے کر کراچی تک پھیلے ہیں‘ ہمیں ان سے نبٹنے کے لیے جنوبی وزیرستان میں فوج تعینات کرنا پڑے گی جب کہ فاٹا سے لے کر کراچی تک جاسوسی کا وسیع جال پھیلانا پڑے گا‘ کیا ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں؟

    مجھے حکومتی سطح پر کسی جگہ اس کی تیاری نظر نہیں آ رہی‘ ہم اب اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں ’’ہمارے پاس دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے حل کیا ہے؟‘‘ ہمارے پاس صرف دو حل ہیں‘ ہم کسی نہ کسی طرح نیٹو فورس‘ امریکا اور صدر کرزئی کو تیار کر لیں کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کر دے یا پھر نیٹ ورک کی تمام معلومات ہمارے حوالے کر دے‘ پاکستان کا ایک ادارہ اس آپشن پر کام کر رہا ہے‘ دوسرا ہم کسی نہ کسی طرح ملا فضل اللہ کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں‘ یہ کام صرف مسلم خان اور محمود خان کر سکتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے‘ کیا وزیر داخلہ چوہدری نثار ان دونوں کے وجود سے آگاہ ہیں‘ اگر ہاں تو یہ ان سے رابطہ کریں اور اگر نہیں تو پھر ان کا پتہ چلائیں‘ چوہدری صاحب جس دن مسلم خان تک پہنچ جائیں گے اس دن مذاکرات کی گرہیں کھلنے لگیں گی۔

    http://www.express.pk/story/217971/

    #107796 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107797 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    بونگیاں مارنے سے بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے ہاں مزکرات کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے ۔۔

    #107798 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107799 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107800 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    #107801 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    اب طالبان سے مذاکرات والا چکر ختم ہو چکا ہے

    فوجیوں پر لگاتار حملوں کے بعد اب غیر اعلانیہ ملٹری آپریشن شروع ہو چکا ہے

    #107802 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    جی باوا جی ۔

    اپ کی بات درست لگ رہی ہے ۔۔ یہ خبر میں نے بھی پڑھی ہے ۔ یہ کوئی اچھا شکون نہیں ۔ لگتا ہے اس سال جتنے بھی حملہ ہوئے ہیں اس ملٹری آپریشن کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے تھے ۔

    #107803 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی – درست کہا ہے آپ نے

    فوج تو پہلے بھی مذاکرات کے حق میں نہیں تھی اور اب تو اسکے پاس ملٹری آپریشن کا مکمل جواز آ گیا ہے

    حکومت حسب سابق مذاکرات کا ڈرامہ کرے گی اور فوج آپریشن کرے گی

    لگتا ہے ملٹری آپریشن کی وجہ سے اب طالبان بھی دباو میں ہیں

    #107804 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    باوا جی ۔

    طالبان کیوں دباو میں ہونگیں ؟

    وہ تو خوش ہو رہے ہونگیں ۔ اب تک جو امن کے حق میں تھے وہ بھی طالبان کے ساتھ شامل ہو جائیں گیں ۔

    #107805 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    جب وزیرستان میں طالبان کی وجہ سے لوگ مریں گے تو وہاں کے لوگ طالبان کے خلاف ہونگے اور تنگ آ کرطالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں گے. طالبان کے محفوظ ٹھکانے ختم ہو جائیں گے اور وہ افغانستان بھاگنے پر مجبور ہونگے

    #107806 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    باوا جی ۔۔

    اچھا اپ نے بھی سائیڈ بدل لی ۔ اب اپ بھی اپریشن کے حق میں ہو گئے ۔ یعنی اپرشن سے مسلہ حل ہو جائے گا ؟

    پہلے کب وہاں کے لوگ طالبان کے خلاف ہوئے اور تنگ آ کرطالبان کے خلاف ہتھیار اٹھائے. کہ اب وہ طالبان کے خلاف ہونگے اور تنگ آ کرطالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں گے.؟

    ن لیگ کی حکومت کی کمزوری پر پردہ ڈالنے کا اچھا حربہ ہے ۔۔۔

    نہیں یہ اپریشن اور خون خرابہ لے کر ائے گا ۔ کیونکہ طالبان صرف وزیرستان میں نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل گئے ہیں ۔۔ اور پہلے کی طرح لوگوں کی نقل مکانی کے پردے میں وہ بھی وہاں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں چلے جائیں گیں ۔

    اور جب اپرشن ناکام ہو کر ختم ہو جائے گا تو اپنی اپنی جگہوں سے نکل کر انتقام لیں گیں ۔۔

    #107807 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    طالبان کا حامی تو میں کبھی بھی نہیں تھا. جب میں مذاکرات کی حمایت کرتا تھا تو اسوقت بھی میری یہ پہلی نہیں بلکہ دوسری آپشن تھی اور پہلی آپشن ہمیشہ فتنے کو بزور طاقت دبانے کی ہی تھی

    مذاکرات کی حمایت میں دو وجوہات کی بنا پر کرتا تھا. ایک یہ کہ میرے خیال میں اگر کوئی مسئلہ مذاکرات سے حل ہوتا ہے تو طاقت کے استعمال کی اور خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے. دوسرے پاکستانی فوج کو دو سرحدوں پر بر سر پیکار نہیں ہونا چاہئیے

    طالبان نے مذاکرات کا مثبت جواب دینے کی بجائے عوام اور فوج کا قتل عام جاری رکھا اور یہ ممکن نہیں ہوتا کہ امن مذاکرات بھی کیے جائیں اور لاشیں بھی اٹھائی جائیں

    اب بھی اگر طالبان بات چیت کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں قتل و غارت بند کرنی چاہئیے اور مذاکرات کی میز پر آنا چاہئیے لیکن انکے ماضی سے یہی لگتا ہے کہ وہ مذاکرات کے نام پر صرف اپنے آپ کو منظم کرنے کی خاطر وقت حاصل کر رہے ہیں

    اگر مذاکرات کی سنجیدہ کوشش کا طالبان کی طرف سے سنجیدگی سے جواب نہیں دیا جاتا ہے تو پھر مکمل ملٹری آپریشن نا گزیر ہے

    #107808 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    باوا جی ۔۔

    ‎طالبان نے مذاکرات کا مثبت جواب دینے کی بجائے عوام اور فوج کا قتل عام جاری رکھا اور یہ ممکن نہیں ہوتا کہ امن مذاکرات بھی کیے جائیں اور لاشیں بھی اٹھائی جائیں

    جب بھی طالبان سنجیدگی سے مزکرات کے حق میں ہوتے تھے تو پاکستان کا دوست ملک امریکہ ڈرون حملہ کر کر مزکرات کا سبوتژ کر دیتا تھا ۔ مجھے تو اس میں طالبان کا کم اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا زیادہ قصور لگتا ہے ۔

    اور جیسے اپ نے کہا ہے کہ

    فوج تو پہلے بھی مذاکرات کے حق میں نہیں تھی اور اب تو اسکے پاس ملٹری آپریشن کا مکمل جواز آ گیا ہے ۔

    یعنی شروع سے ہی نیت میں کھوٹ تھا ۔۔۔

    #107809 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو طالبان کو امریکی مقاصد ناکام بنانے کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیے اور قوم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے یا معصوم اور بے گنہ لوگوں کو قتل کرنا چاہئیے؟

    فوج کا ایک اپنا ذہن ہوتا ہے اور تربیت ہوتی ہے اور وہ یہ ہوتا ہے کہ فتنے فساد کو طاقت سے کچل دو – ہر فوج کی یہی تربیت ہوتی ہے

    حکومت اور تمام سیاسی قیادت مذاکرات پر متفق تھی لیکن طالبان نے وقت ضائع کر دیا

    اور طالبان کے حامی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور فوجی جرنیلوں نے طالبان کو راہ راست پر لانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا

    اب آپریشن شروع ہو چکا ہے اور اب مذاکرات کا ذکر بیکار ہے

    اب دونوں طرف کا نقصان ہوتا رہے گا. یہ لا متناہی سلسلہ بہت طویل ہوگا اور تب تک چلتا رہے گا جب تک طالبان ہتھیار نہیں ڈال دیں گے

    #107810 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    doppel

    ۔۔۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔

    ۔۔

    #107811 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:934
      • Replies:5621
      • Contributions:6555
      • Expert
      • ★★★

    مزکرات تو پھر فوج کے درمیان اور طالبان کے درمیان ہونے چاھیے تھے ۔ حکومت اور تمام سیاسی قیادت کے مذاکرات پر متفق ہونے کیا فائدہ ہوا ۔

    کیونکہ اگر فوج کا ایک خاص زہن ہے تو طالبان کا بھی ایک خاص زہن ہے ۔

    ‎اور طالبان کے حامی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور فوجی جرنیلوں نے طالبان کو راہ راست پر لانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا

    اور حکومت اور تمام سیاسی قیادت نے فوجی جرنیلوں کو راہ راست پر لانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔

    جیسے ایک طرف طالبان ہیں تو دوسری طرف فوج ۔ دونوں ہتھیاروں کا بے دریخ استعمال کرنے والے ۔ اب طالبان کی کوئی سیاسی قیادت تو نہیں کے وہ فوجی سوچ کے بجائے ایک سیاسی سمجھ بوجھ رکھتی ہو ۔ لیکن پاکستان کی حکومت تو اس وقت سیاسی ہے نہ کہ فوجی ۔ اگر فوجی ہوتی پھر تو معاملہ برابر ہو جاتا ۔۔

    اگر حکومت اور تمام سیاسی قیادت کچھ کرنے کے قابل ہوتی تو اسکو فوج پر دباو ڈالنا چاھیے تھا کہ وہ اپنے زہن سے سوچنے کے بجائے پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کی سوچے ۔ اور ایسے فتنے کو جو اس کا خود پیدا کیا ہوا ہے طاقت سے کچلنے کے بجائے اپنی نیتوں کو ٹھیک کر کر مزکرات سے حل کرے ۔۔۔

    لیکن افسوس اگر حکومت اور تمام سیاسی قیادت پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کی سوچے تو ان کا بھی وہی حال ہو گا جو اب تک سوائے زرداری چور کے دیگر حکومتوں کا ہوتا ہوا ا ریا ہے ۔۔ اس لیے اج کی حکومت اور سیاسی قیادت بھی چور زرداری کی طرح اپنی حکومت بچانے کی فکر میں لگی ہوئی ہے نہ کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو بچانے کی فکر میں ۔۔۔

    #107812 0 Likes | Like it now
    Bawa
    • Offline
      • Topics:441
      • Replies:5095
      • Contributions:5536
      • Expert
      • ★★★

    مومن بھائی

    فوج نے موقع بھی دیا اور سیاسی قیادت متفق بھی ہوئی لیکن طالبان نے موقع ضائع کر دیا بلکہ نہ صرف موقع ضائع کر دیا بلکہ حملے پر حملے کرکے سیاسی کو پیچھے ہٹنے اور فوج کو آپریشن کرنے کی راہ ہموار کر دی. طالبان نے جو کچھ کیا اس پر کوئی بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھکر نہیں بیٹھ سکتا

    ہاں، اب نقصان ہوگا ادھر کے لوگوں کا بھی ادھر کے لوگوں کا بھی، سیاستدانوں اور سرکاری مشینری کا بھی اور طالبان کا بھی اور فوج کا بھی – اسوقت تک جب تک سری لنکا کی طرح کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ جاتا

Viewing 30 replies - 1 through 30 (of 241 total)

You must be logged in to reply to this topic.