پاکستانی نوجوان نسل

forums discuss Pakistani politics پاکستانی نوجوان نسل

  • This topic has 1 reply, 1 voice, and was last updated 3 months ago by مومن.
  • Creator
    Topic
  • #127482 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Topics:967
    • Replies:5751
    • Contributions:6718
    • Expert
    • ★★★

    مغرب یہ سادہ سی بات سمجھ گیا ہے کہ بھوک پیاس کی طرح بالغ ہونے پر جنسِ مخالف کی طلب بھی انسان کی اہم اور ناگزیر ضرورت ہے اور اس کے بغیر انسان نارمل زندگی نہیں گزارسکتا۔ جس طرح پیٹ کے بھوکے کو جب تک کھانا نہیں ملتا، وہ روٹی کے بارے میں ہی سوچے گا اور اس سے آگے اس کی سوچ نہیں جائے گی، اسی طرح جنس کا بھوکا بھی ہر وقت اپنی جنسی بھوک مٹانے کی فکر میں مبتلا رہے گا۔ جب تک اس کی پیٹ کی اور نفس کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، تب تک وہ کوئی تخلیقی کام نہیں کرسکتا۔ پاکستانی مرد کے ذہن پر اسی لئے ہر وقت عورت سوار رہتی ہے، کیونکہ معاشرے نے اس کی جنسی تسکین کی ضرورت پر بے جا پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ ایک لڑکا یا لڑکی جب بالغ ہوتے ہیں تو وہ عموماً سکول میں پڑھ رہے ہوتے ہیں، ایسے میں ان کی جنسی ضرورت پوری کرنے کا مذہب کیا حل دیتا ہے؟۔ اسلام جو دینِ فطرت ہونے کا دعویدار ہے، وہ اس مسئلے کے دو حل پیش کرتا ہے۔

    پہلا حل یہ ہے کہ وہ شادی کرے اپنی جنسی ضرورت بھی پوری کرے اور بچے بھی پیدا کرنے شروع کردے۔۔۔

    دوسرا حل یہ ہے کہ اگر وہ شادی نہیں کرسکتا، تو اپنی جنسی طلب کو دبانے کیلئے روزے رکھے۔۔۔

    اندازہ کیجئے۔۔یعنی اگر اس لڑکے یا لڑکی کی دس سال مزید شادی نہیں ہوتی تو تب تک وہ روزے ہی رکھتے رہیں، تعلیم،کیرئیر، نارمل زندگی گئی بھاڑ میں۔۔ بس روزے رکھو اور پیٹ پر کپڑا باندھ کر مسجد کے حجرے میں اوندھے منہ پڑے رہو۔۔۔ شادی والے حل کو ملاحظہ کیجئے۔۔۔ یعنی لڑکا یا لڑکی جو ابھی تعلیم حاصل کررہے ہیں، کوئی ذریعہ معاش نہیں، وہ شادی کرکے دھنادھن بچے پیدا کرنا شروع کردیں، تعلیم، کیریئر یہاں بھی گیا بھاڑ میں۔۔۔ ان دو کے علاوہ اسلام کے پاس ان نوبالغین کی جنسی ضرورت پوری کرنے کا کوئی حل نہیں۔۔۔

    مغرب نے اس مسئلے کا بڑا آسان حل نکالا ہے کہ جنسی ضرورت کو شادی سے الگ کردیا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں کو اتنی بات سمجھ نہیں آرہی کہ جنسی ضرورت نارمل زندگی گزارنے کیلئے ناگزیر ہے، فرسودہ مذہبی جکڑبندیوں کی وجہ سے لوگوں کی عقل ہی نہیں کامن سینس بھی ماری گئی ہے۔۔ شادی کے ساتھ جنسی ضرورت کو نتھی کرنے کی وجہ سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں جنسی گھٹن، بے دریغ آبادی، تخلیق کا فقدان سب سے اہم ہیں۔ آبادی بڑھنے کی وجہ سے گھر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر کر چھوٹے چھوٹے رہ گئے ہیں۔ پانچ پانچ مرلے کے گھر میں کئی جوڑے آباد ہوتے ہیں۔ کمرے کے ساتھ کمرا اور دیوار کے ساتھ دیوار ٹھکی ہوتی ہے۔ ہر بچے کی شادی کے بعد اسے ایک چھوٹا سا کمرہ دے دیا جاتا ہے، جس میں دلہا دلہن دم سادھے، سانس روکے عجلت میں جنسی فعل پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں آواز باہر نہ چلی جائے، (اس موضوع پر منٹو کا افسانہ “ننگی آوازیں” پڑھنے لائق ہے) ایسے میں جنسی تسکین کیا خاک میسر آنی ہے۔۔ اسی لئے پاکستان میں کنوارے ہی نہیں شادی شدہ حضرات بھی جنسی فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ ایسے سیکشوئلی فرسٹریٹڈ معاشرے سے کیا خاک کوئی تخلیقی صلاحیت جنم لینی ہے۔ تمام نت نئے آئیڈیاز، ایجادات، دریافتیں اور علوم کے خزینے سب مغرب اور ان معاشروں سے آرہے ہیں جہاں جنسی گھٹن کا خاتمہ کردیا گیا ہے، معاشرے کے لوگوں کو معاشی اور جنسی آسودگی فراہم کردی گئی ہے ۔ جبکہ اسکے مقابلے میں پاکستان، افغانستان، ایران، سعودی عرب جیسے معاشرے جو ابھی چودہ صدیاں پرانے فرسودہ زمانوں کی چھتر چھایہ تلے قید ہیں، یہاں سوائے کچرے کے اور کچھ پیدا نہیں ہورہا۔۔ عقل قید میں ہے اور کامن سینس زندہ درگور ہوچکی ہے۔۔۔

    پاکستان میں تخلیقی صلاحیت کی کمی نہیں ۔۔۔پاکستانی نوجوان نسل نہ صرف محنتی ہےبلکہ اپنے مقصد کو پورا کرنا بھی جانتے ہے۔۔۔

    ہاں جو پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں منفی سوچ رکھتا ہے تو اس کو پاکستانی  فرسٹریٹڈ نظر اتے ہیں ۔۔۔جو خود جنسی  فرسٹریٹڈ  ہو اسے دوسرے بھی جنسی فرسٹریٹڈ  نظر اتے ہونگیں ۔۔۔

    پاکستان کی اکثریت ابادی خوشحال  ازدوجی زندگی گزارتی ہے ۔۔۔مغرب کے مقابلے میں ۔۔۔

    طلاق کی شرہ  پاکستان کی مقابلے میں مغرب میں بہت زیادہ ہے ۔۔۔حالانکہ مغرب کے مرد حضرات موت سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا شادی سے ڈرتے ہیں ۔۔۔

    بچارے شادی سے  ڈریں نہ تو کیا کریں ۔۔۔

    مغرب کا قانون ہی ایسا ہے کہ طلاق کے بعد ادھی کمائی اپنی ایکس وائف کو دینی پڑتی ہے جب تک وہ خود اپنے پاوں پر کھڑی نہ پو جائے۔۔۔

    جب اس کو گھر بیٹھے مل تو اس کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ کام ڈھونڈے گی  ۔۔۔

    بعض عورتیں تو علہدگی کے بعد اپنا نوجوان دوست بنا لیتی ہیں اور اس کا خرچہ بھی اپنے کماو ایکس شوہر سے بٹورتی ہیں ۔۔۔

    اس لیے مرد بھی چالاقی کرتے ہیں اور بغیر شادی کے۔۔عورت سے نہیں بلکہ عورتوں سے ۔۔۔اپنی جنسی ضرورت پوری کرتے رہتے ہیں ۔۔۔

    بہت سے مرد اور عورتیں شادی سے اتنی مایوس ہو جاتیں ہیں کہ ائندہ کبھی بھی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں ۔۔۔بے چارے بہت سے ایسے ہی بے اولاد اس جہاں سے چلے جاتے ہیں ۔۔۔

    یہ بھی کوئی لائیف ہے؟

Viewing 1 replies (of 1 total)
  • Author
    Replies
  • #127484 0 Likes | Like it now
    Participant
    Participant
    مومن
    • Offline
      • Topics:967
      • Replies:5751
      • Contributions:6718
      • Expert
      • ★★★
    ۔ کس ڈاکٹر نے کہا ہے فوجی جوانوں کو سرحدو پر اپنی جا نیں دینے کے لیئے ۔۔۔۔۔ اپنے گھر بیٹھیں ماں باپ کی خدمت کریں ۔۔۔۔ پہلے شہا دتیں ۔۔ دینے والوں ۔۔۔ نشان حیدر والوں سے کونسا ۔۔۔۔ بنگہ دیش کشمیر کابل ۔۔۔۔ نقشے میں شامل ہوگیا ۔۔۔۔ جو یہ بے وقوف کرلیں گے ۔۔۔۔۔ جن ۔۔۔ چ ۔۔۔۔ لوگوں سے ۔۔۔ کراچی ۔۔۔۔ لیاری ۔۔۔ کوئٹہ نہیں سبنھا لا جاتا ان کو چاھیے ۔۔۔۔ گھر میں بیٹھیں ۔۔۔۔ ان کی شہا دتوں سے نہ پہلے کچھ بنا ہے نہ آئیندہ کچھ بننے والا ہے ۔۔۔۔ خود کشیاں مت کریں ۔۔۔۔ اپنے گھرون کو لوٹیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوازشریف نے بھارت میں اگر کوئی سرمایہ کاری کی ہے تو بہت اچھا کیا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے پچھلے تختے میں ۔۔۔۔ شریفوں کے گھروں ۔۔۔ صنعتوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔۔۔۔ نوازشریف کو پورا حق ہے ۔۔۔ وہ اپنے کاروبار ۔۔۔۔ اپنا ۔۔۔ سرمایہ ۔۔۔۔ ڈاکو پا ک فوج ۔۔۔۔ سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔ چا ھے لند ن بھارت سعودیہ ۔۔۔۔ امریکہ ۔۔۔ اس کو پورا حق ہے ۔۔۔۔۔ اپنے سرمائے کو ۔۔۔۔ پا ک فوج کے شر سے بچانے کا ۔۔۔۔ نوازشریف نے ۔۔۔ مودی ۔۔۔ کو شادی میں بلا یا ۔۔۔ بہت اچھا کیا ۔۔۔۔ اسلام کہتا ہے ۔۔۔۔ پڑوسی سے جنگیں مت کرو ۔۔۔ دوستی پیار سے رھو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پٹوری تو یہی چاہتے ہیں ۔۔۔اب پاکستان میں  اقتدارتو ان کو ملنے سے رہا۔۔۔۔

    پاکستان کو ختم کر کر ۔۔۔ہندوستان کے حوالے کر دیں تو شاید مودی کےدور میں اس خطے پر ان کو حکومت کرنے کا موقع مل جائے ۔۔۔لیکن یہ ان   کی بھول ہے ۔۔۔پاکستان پر جس نے بھی میلی انکھوں سے دیکھا تو اس کی انکھیں نکال لیں گیں ۔۔۔۔

Viewing 1 replies (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.